حدیث نمبر: 5801
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبِي وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبِي: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضِمَادًا، قَدِمَ مَكَّةَ، وَكَانَ مِنْ أَزِدْ شَنُوءَةَ وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدِيَّ قَالَ: فَلَقِيَهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ وَإِنَّ اللهَ يَشْفِي عَلَى يَدِيَّ مَنْ يَشَاءُ فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ " فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَقَوْلَ ⦗٣٠٤⦘ الشُّعَرَاءِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ فَقَالَ: هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَبَايَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَى قَوْمِكَ؟ " فَقَالَ: وَعَلَى قَوْمِي. قَالَ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ: هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَاءِ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً فَقَالَ: رُدُّوهَا، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضماد مکہ آئے، وہ ازد شنوءہ سے تعلق رکھتے تھے اور جادو سے دم کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مکہ کے بیوقوف لوگوں سے سنا کہ محمد ﷺ مجنون ہیں۔ انہوں نے سوچا: اگر میں اس آدمی کو دیکھوں تو ممکن ہے میرے ہاتھ سے اللہ ان کو شفا دے دے۔ ضماد آپ ﷺ سے ملے اور کہنے لگے: اے محمد! میں اس بیماری کا دم کرتا ہوں اور میرے ہاتھ سے اللہ جس کو چاہتا ہے شفا دے دیتا ہے، کیا آپ کو بھی یہ بیماری ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ پڑھا: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کو وہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ ضماد کہنے لگے: اپنے کلمات دوبارہ پڑھیں، تو نبی ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے۔ ضماد کہنے لگے: میں نے کاہنوں کا کلام سن رکھا ہے اور جادوگروں اور شعرا کے کلام بھی سن رکھے ہیں، لیکن میں نے اس جیسے کلمات نہیں سنے کیونکہ یہ انتہائی بلیغ ہیں۔ ضماد نے عرض کیا: اپنا ہاتھ بڑھائیے میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر اس نے بیعت کر لی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قوم پر بھی؟“ ضماد نے عرض کیا: ہاں میری قوم پر بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا تو وہ ضماد کی قوم کے پاس سے گزرے، امیرِ لشکر نے کہا: کیا تم نے اس قوم سے کچھ لیا؟ ایک آدمی کہنے لگا: میں نے ایک لوٹا لیا تھا، فرمایا: واپس کر دو یہ ضماد کی قوم ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5801
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 868»