حدیث نمبر: 5800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَيَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: " مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَخَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ". وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ عَلَا صَوْتُهُ، وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: " صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ، أَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جس کا وہ اہل ہے، پھر فرماتے: ”جس کو اللہ ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں، بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے اور بدترین کام نئے کام ہیں اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے“ اور جب آپ ﷺ قیامت کا تذکرہ فرماتے تو آپ ﷺ کی آواز بلند ہو جاتی اور رخسار سرخ ہو جاتے، غصہ زیادہ ہو جاتا، گویا آپ ﷺ کسی لشکر سے ڈرانے والے ہیں جو صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے، (اور آپ ﷺ فرماتے تھے:) ”جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جس نے قرض چھوڑا وہ میرے ذمہ ہے اور میں مومنوں کا ولی ہوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5800
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر 5753»