السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من قال لا تحبس الجمعة عن سفر باب: اس شخص کا قول کہ نمازِ جمعہ کسی کو سفر سے نہیں روکے گی
حدیث نمبر: 5656
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَتَخَلَّفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا خَلَّفَكَ عَنْ أَصْحَابِكَ؟ " قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ، قَالَ: " لَوْ أَنْفَقَتْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ ". وَكَانُوا خَرَجُوا يَوْمَ جُمُعَةٍ. وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، وَالْحَجَّاجُ يَنْفَرِدُ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
مقسم، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کو روانہ کیا تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے اپنے ساتھیوں سے پیچھے رکھا؟“ عرض کیا: میں نے چاہا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ لوں، پھر میں ان کے ساتھ مل جاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو جو کچھ زمین میں ہے خرچ کر دے تو ان کے صبح کے وقت کے ثواب کو نہ پا سکے گا۔“ اور وہ جمعہ کے دن نکلے تھے۔