حدیث نمبر: 5655
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ الْبَجَلِيِّ قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَيْشًا فِيهِمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَخَرَجُوا يَوْمَ جُمُعَةٍ، قَالَ: وَمَكَثَ مُعَاذٌ حَتَّى صَلَّى، فَمَرَّ بِهِ عُمَرُ فَقَالَ: أَلَسْتَ فِي هَذَا الْجَيْشِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْهَدَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَرْوَحَ، قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ". وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابوزرعہ بن عمرو بن جریر بجلی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن ایک لشکر روانہ کیا۔ ان میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رک گئے۔ جب جمعہ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ اسی لشکر میں نہ تھے؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا شان ہے؟ (یعنی کیا بات ہوئی؟) کہنے لگے: میں نے ارادہ کیا کہ جمعہ پڑھ کر چلا جاؤں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا کہ ”صبح کے وقت یا شام کے وقت اللہ کے راستہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5655
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»