کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول کہ نمازِ جمعہ کسی کو سفر سے نہیں روکے گی
حدیث نمبر: 5654
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَبْصَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا عَلَيْهِ هَيْئَةُ السَّفَرِ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ جُمُعَةٍ لَخَرَجْتُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " اخْرُجْ فَإِنَّ الْجُمُعَةَ لَا تَحْبِسُ عَنْ سَفَرٍ ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَسْوَدِ فَقَالَ فِيهِ: رَأَى رَجُلًا يُرِيدُ السَّفَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَنْتَظِرُ الْجُمُعَةَ، فَقَالَ عُمَرُ مَا قَالَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) اسود بن قیس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حالتِ سفر میں ایک آدمی کو دیکھا، انہوں نے اس سے سنا، وہ کہہ رہا تھا: اگر آج جمعہ نہ ہوتا تو میں سفر میں چلا جاتا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جاؤ، جمعہ سفر سے نہیں روکتا۔
(ب) ثوری، اسود سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو جمعہ کے دن سفر کا ارادہ رکھتا تھا اور وہ انتظار کر رہا تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو وہی بات کہی۔
(ب) ثوری، اسود سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو جمعہ کے دن سفر کا ارادہ رکھتا تھا اور وہ انتظار کر رہا تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو وہی بات کہی۔
حدیث نمبر: 5655
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ الْبَجَلِيِّ قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَيْشًا فِيهِمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَخَرَجُوا يَوْمَ جُمُعَةٍ، قَالَ: وَمَكَثَ مُعَاذٌ حَتَّى صَلَّى، فَمَرَّ بِهِ عُمَرُ فَقَالَ: أَلَسْتَ فِي هَذَا الْجَيْشِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْهَدَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَرْوَحَ، قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ". وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر بجلی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن ایک لشکر روانہ کیا۔ ان میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رک گئے۔ جب جمعہ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ اسی لشکر میں نہ تھے؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا شان ہے؟ (یعنی کیا بات ہوئی؟) کہنے لگے: میں نے ارادہ کیا کہ جمعہ پڑھ کر چلا جاؤں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا کہ ”صبح کے وقت یا شام کے وقت اللہ کے راستہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے“۔
حدیث نمبر: 5656
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَتَخَلَّفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا خَلَّفَكَ عَنْ أَصْحَابِكَ؟ " قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ، قَالَ: " لَوْ أَنْفَقَتْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ ". وَكَانُوا خَرَجُوا يَوْمَ جُمُعَةٍ. وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، وَالْحَجَّاجُ يَنْفَرِدُ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
مقسم، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کو روانہ کیا تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے اپنے ساتھیوں سے پیچھے رکھا؟“ عرض کیا: میں نے چاہا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ لوں، پھر میں ان کے ساتھ مل جاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو جو کچھ زمین میں ہے خرچ کر دے تو ان کے صبح کے وقت کے ثواب کو نہ پا سکے گا۔“ اور وہ جمعہ کے دن نکلے تھے۔
حدیث نمبر: 5657
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَثِيرٍ، وَكَانَ صَاحِبًا لِابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ خَرَجَ لِسَفَرٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ لِسَفَرٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ". أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ. وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
صالح بن کثیر، ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ جمعہ کے دن ابتدائی وقت سفر کے لیے نکلے۔ میں نے ان سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے کہ ”نبی ﷺ بھی جمعہ کے دن ابتدائی وقت میں سفر کے لیے نکلے تھے۔“