السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من لا جمعة عليه إذا شهدها صلاها ركعتين باب: جس پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ میں حاضر ہو جائے تو دو رکعتیں ہی پڑھے
حدیث نمبر: 5652
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: " كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يَنْتَهِي إِلَيَّ قَوْلُهُمْ، فَذَكَرَ الْفُقَهَاءَ السَّبْعَةَ مِنَ التَّابِعِينَ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّتْ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ أَهْلُ فِقْهٍ وَفَضْلٍ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا. فَذَكَرَ مِنْ أَقَاوِيلِهِمْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: إِنْ شَهِدَتِ امْرَأَةٌ الْجُمُعَةَ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأَعْيَادِ أَجْزَأَ عَنْهَا، قَالُوا: " وَالْغِلْمَانُ، وَالْمَمَالِيكُ، وَالنِّسَاءُ، وَالْمُسَافِرُونَ، وَالْمَرْضَى كَذَلِكَ، لَا جُمُعَةَ عَلَيْهِمْ وَلَا عِيدَ، فَمَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ جُمُعَةً أَوْ عِيدًا أَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابو زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ایک مستند فقیہ کو دیکھا، اس نے تابعین کے سات بڑے فقہاء کا تذکرہ کیا۔۔۔ پھر فرمایا: فقہاء فرمایا کرتے تھے کہ اگر عورت جمعہ یا عید کی نماز میں حاضر ہو جائے تو جائز ہے اور بچے، غلام، مسافر اور بیمار یا بچی وغیرہ پر جمعہ اور عید واجب نہیں۔ اگر کوئی جمعہ اور عید میں حاضر ہو جائے تو یہ جائز ہے۔