السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من لا جمعة عليه إذا شهدها صلاها ركعتين باب: جس پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ میں حاضر ہو جائے تو دو رکعتیں ہی پڑھے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: " كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يَنْتَهِي إِلَيَّ قَوْلُهُمْ، فَذَكَرَ الْفُقَهَاءَ السَّبْعَةَ مِنَ التَّابِعِينَ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّتْ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ أَهْلُ فِقْهٍ وَفَضْلٍ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا. فَذَكَرَ مِنْ أَقَاوِيلِهِمْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: إِنْ شَهِدَتِ امْرَأَةٌ الْجُمُعَةَ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأَعْيَادِ أَجْزَأَ عَنْهَا، قَالُوا: " وَالْغِلْمَانُ، وَالْمَمَالِيكُ، وَالنِّسَاءُ، وَالْمُسَافِرُونَ، وَالْمَرْضَى كَذَلِكَ، لَا جُمُعَةَ عَلَيْهِمْ وَلَا عِيدَ، فَمَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ جُمُعَةً أَوْ عِيدًا أَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ ".عبد الرحمن بن ابو زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہمارے جن فقہاء کو میں نے پایا جن کے اقوال مجھ تک پہنچے، (پھر انہوں نے تابعین کے سات فقہاء کا تذکرہ کیا) اور ان کے ساتھ ان کے ہم پلہ دوسرے بزرگ مشائخ بھی تھے جو اہلِ فقہ و فضل تھے، اور بعض اوقات وہ کسی مسئلہ میں اختلاف کرتے تو ہم ان میں سے اکثر اور رائے میں افضل لوگوں کا قول لے لیتے۔ پھر انہوں نے ان کے کچھ اقوال ذکر کیے، پھر فرمایا: فقہاء فرمایا کرتے تھے کہ اگر عورت جمعہ یا عید کی نماز میں حاضر ہو جائے تو یہ اس کی طرف سے کافی ہے، اور بچے، غلام، عورتیں، مسافر اور بیمار بھی اسی طرح ہیں، ان پر جمعہ اور عید واجب نہیں۔ اگر ان میں سے کوئی جمعہ یا عید میں حاضر ہو جائے تو یہ اس کی طرف سے کافی ہے۔