کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ میں حاضر ہو جائے تو دو رکعتیں ہی پڑھے
حدیث نمبر: 5650
رُوَّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: قَدْ كُنَّ النِّسَاءُ يُجَمِّعْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”عورتیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کیا کرتی تھیں۔“
حدیث نمبر: 5650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا الْفَزَارِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ، قَالَتْ: جَاءَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: كَيْفَ تُصَلِّينَ؟ ثُمَّ قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُنَّ مَعَ الْإِمَامِ فَبِصَلَاتِهِ، وَإِذَا صَلَّيْتُنَّ وَحْدَكُنَّ فَتُصَلِّينَ أَرْبَعًا ".
حافظ ثناء اللہ
حمید فزاری اپنے قبیلہ کی ایک عورت سے نقل فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا: تم نماز کیسے پڑھتی ہو؟ پھر فرمایا: جب تم امام کے ساتھ نماز پڑھو تو اس کی نماز کی طرح پڑھو اور جب تم اکیلی نماز پڑھو تو پھر چار رکعات ادا کیا کرو۔
حدیث نمبر: 5651
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ يُخْرِجُ النِّسَاءَ مِنَ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَقُولُ: " اخْرُجْنَ، فَإِنَّ هَذَا لَيْسَ لَكُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ایاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جمعہ کے دن مسجد سے عورتوں کو نکالتے تھے اور فرماتے: ”جمعہ تمہارے لیے نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 5652
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: " كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يَنْتَهِي إِلَيَّ قَوْلُهُمْ، فَذَكَرَ الْفُقَهَاءَ السَّبْعَةَ مِنَ التَّابِعِينَ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّتْ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ أَهْلُ فِقْهٍ وَفَضْلٍ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا. فَذَكَرَ مِنْ أَقَاوِيلِهِمْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: إِنْ شَهِدَتِ امْرَأَةٌ الْجُمُعَةَ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأَعْيَادِ أَجْزَأَ عَنْهَا، قَالُوا: " وَالْغِلْمَانُ، وَالْمَمَالِيكُ، وَالنِّسَاءُ، وَالْمُسَافِرُونَ، وَالْمَرْضَى كَذَلِكَ، لَا جُمُعَةَ عَلَيْهِمْ وَلَا عِيدَ، فَمَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ جُمُعَةً أَوْ عِيدًا أَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابو زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ایک مستند فقیہ کو دیکھا، اس نے تابعین کے سات بڑے فقہاء کا تذکرہ کیا۔۔۔ پھر فرمایا: فقہاء فرمایا کرتے تھے کہ اگر عورت جمعہ یا عید کی نماز میں حاضر ہو جائے تو جائز ہے اور بچے، غلام، مسافر اور بیمار یا بچی وغیرہ پر جمعہ اور عید واجب نہیں۔ اگر کوئی جمعہ اور عید میں حاضر ہو جائے تو یہ جائز ہے۔