کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جس پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ میں حاضر ہو جائے تو دو رکعتیں ہی پڑھے
❮
❯
رُوَّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: قَدْ كُنَّ النِّسَاءُ يُجَمِّعْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”عورتیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کیا کرتی تھیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا الْفَزَارِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ، قَالَتْ: جَاءَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: كَيْفَ تُصَلِّينَ؟ ثُمَّ قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُنَّ مَعَ الْإِمَامِ فَبِصَلَاتِهِ، وَإِذَا صَلَّيْتُنَّ وَحْدَكُنَّ فَتُصَلِّينَ أَرْبَعًا ".
حافظ ثناء اللہ
حمید فزاری اپنے قبیلہ کی ایک عورت سے نقل فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا: تم نماز کیسے پڑھتی ہو؟ پھر فرمایا: جب تم امام کے ساتھ نماز پڑھو تو اس کی نماز کی طرح پڑھو اور جب تم اکیلی نماز پڑھو تو پھر چار رکعات ادا کیا کرو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5650
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ عبد الرزاق 5237»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ يُخْرِجُ النِّسَاءَ مِنَ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَقُولُ: " اخْرُجْنَ، فَإِنَّ هَذَا لَيْسَ لَكُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ایاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جمعہ کے دن مسجد سے عورتوں کو نکالتے تھے اور فرماتے: ”جمعہ تمہارے لیے نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5651
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ عبد الرزاق 5201»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: " كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يَنْتَهِي إِلَيَّ قَوْلُهُمْ، فَذَكَرَ الْفُقَهَاءَ السَّبْعَةَ مِنَ التَّابِعِينَ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّتْ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ أَهْلُ فِقْهٍ وَفَضْلٍ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا. فَذَكَرَ مِنْ أَقَاوِيلِهِمْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: إِنْ شَهِدَتِ امْرَأَةٌ الْجُمُعَةَ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأَعْيَادِ أَجْزَأَ عَنْهَا، قَالُوا: " وَالْغِلْمَانُ، وَالْمَمَالِيكُ، وَالنِّسَاءُ، وَالْمُسَافِرُونَ، وَالْمَرْضَى كَذَلِكَ، لَا جُمُعَةَ عَلَيْهِمْ وَلَا عِيدَ، فَمَنْ شَهِدَ مِنْهُمْ جُمُعَةً أَوْ عِيدًا أَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابو زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہمارے جن فقہاء کو میں نے پایا جن کے اقوال مجھ تک پہنچے، (پھر انہوں نے تابعین کے سات فقہاء کا تذکرہ کیا) اور ان کے ساتھ ان کے ہم پلہ دوسرے بزرگ مشائخ بھی تھے جو اہلِ فقہ و فضل تھے، اور بعض اوقات وہ کسی مسئلہ میں اختلاف کرتے تو ہم ان میں سے اکثر اور رائے میں افضل لوگوں کا قول لے لیتے۔ پھر انہوں نے ان کے کچھ اقوال ذکر کیے، پھر فرمایا: فقہاء فرمایا کرتے تھے کہ اگر عورت جمعہ یا عید کی نماز میں حاضر ہو جائے تو یہ اس کی طرف سے کافی ہے، اور بچے، غلام، عورتیں، مسافر اور بیمار بھی اسی طرح ہیں، ان پر جمعہ اور عید واجب نہیں۔ اگر ان میں سے کوئی جمعہ یا عید میں حاضر ہو جائے تو یہ اس کی طرف سے کافی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5652
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»