السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: العدد الذين إذا كانوا في قرية وجبت عليهم الجمعة باب: ان افراد کی تعداد جن کے کسی بستی میں ہونے سے ان پر جمعہ فرض ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 5613
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْوَلِيدُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شَيْبَانُ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِآلِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْقُرَى الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ مَا تَرَى فِي الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا كَانَ عَلَيْهِمْ أَمِيرٌ فَلْيُجَمِّعْ ".حافظ ثناء اللہ
(الف) سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے غلام نے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بستیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: جب ان کا امیر ہو تو ان کو جمعہ پڑھائے۔
(ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بستیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں تو وہ جمعہ پڑھیں۔