السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: العدد الذين إذا كانوا في قرية وجبت عليهم الجمعة باب: ان افراد کی تعداد جن کے کسی بستی میں ہونے سے ان پر جمعہ فرض ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 5612
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، فَقَالَ: " كُلُّ مَدِينَةٍ أَوْ قَرْيَةٍ فِيهَا جَمَاعَةٌ وَعَلَيْهِمْ أَمِيرٌ أُمِرُوا بِالْجُمُعَةِ فَلْيُجَمِّعْ بِهِمْ. فَإِنَّ أَهْلَ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ وَمَدَائِنَ مِصْرَ، وَمَدَائِنَ سَوَاحِلِهَا كَانُوا يُجَمِّعُونَ الْجُمُعَةَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِأَمْرِهِمَا، وَفِيهَا رِجَالٌ مِنَ الصَّحَابَةِ ".حافظ ثناء اللہ
ولید بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ شہر یا بستی جس میں جماعت ہوتی ہو اور ان کا امیر ہو تو وہ ان کو جمعہ کا حکم دے اور جمعہ پڑھائے۔ چنانچہ اسکندریہ، مصر کے شہر اور ساحل والے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں جمعہ پڑھتے تھے اور ان میں صحابہ رضی اللہ عنہم بھی رہتے تھے۔