السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: العدد الذين إذا كانوا في قرية وجبت عليهم الجمعة باب: ان افراد کی تعداد جن کے کسی بستی میں ہونے سے ان پر جمعہ فرض ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 5606
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: " أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَحَّمَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ "، فَقُلْتُ لَهُ إِ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ تَرَحَّمْتَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قالَ: " لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ يُقَالُ لَهُ الْخَضَمَاتُ "، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: " أَرْبَعُونَ ". وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ. كَمَا قَالَ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: إِذَا ذَكَرَ سَمَاعَهُ فِي الرِّوَايَةِ وَكَانَ الرَّاوِي ثِقَةً اسْتَقَامَ الْإِسْنَادُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ لَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ.حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمٰن بن کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے والد (کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کو مسجد لے کر آتا تھا جب ان کی بینائی چلی گئی، وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے۔ میں نے پوچھا: ”ابا جان! آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کیوں کرتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے نقیع کے علاقے میں بنو بیاضہ کی بستی ہزم النبیت میں ہمیں جمعہ پڑھایا، جس (مقام) کو خضمات کہا جاتا ہے۔“ میں نے پوچھا: ”آپ لوگ اس دن کتنے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”چالیس آدمی۔“