السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: العدد الذين إذا كانوا في قرية وجبت عليهم الجمعة باب: ان افراد کی تعداد جن کے کسی بستی میں ہونے سے ان پر جمعہ فرض ہو جاتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي ⦗٢٥٢⦘ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ كُفَّ بَصَرُهُ، فَإِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ بِهَا اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَجْزًا أَنْ لَا أَسْأَلَهُ عَنْ هَذَا، فَخَرَجْتُ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ اسْتَغْفَرَ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: " أَيْ بُنَيَّ، كَانَ أَسْعَدُ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي الْمَدِينَةِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ يُقَالُ لَهُ الْخَضَمَاتُ، قُلْتُ: وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ رَجُلًا ".عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد (کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کو مسجد لے کر آتا تھا، جب ان کی نظر ختم ہوگئی۔ ایک مرتبہ میں انہیں جمعہ کے لیے لے کر جا رہا تھا تو اذان سن کر میرے والد نے ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش کی دعا کی۔ میں کچھ وقت رکا اور ان سے یہ سنتا رہا، لیکن سوال نہیں کیا، پھر میں انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا تو جب انہوں نے جمعہ کی اذان سنی تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش کی دعا کی۔ میں نے پوچھ لیا: اے ابا جان! آپ جمعہ کی اذان سن کر اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کرتے ہیں؟ فرمانے لگے: اے بیٹے! اسعد رضی اللہ عنہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مدینہ میں نبی ﷺ کے آنے سے پہلے نقیع کے علاقے میں بنو بیاضہ کی بستی ہزم میں جمعہ پڑھایا۔ اس کو غضمات کہا جاتا تھا۔ میں نے پوچھا: آپ اس دن کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: چالیس افراد۔