حدیث نمبر: 5517
وَأَمَّا حَدِيثُ أَسْلَمَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا الصَّغَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَبَلَغَهُ عَنْ صَفِيَّةَ شِدَّةَ وَجَعٍ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ، جَمَعَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ.
حافظ ثناء اللہ

زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ ان کو صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا کی سخت بیماری کا پتا چلا تو تیز چلے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی، پھر اتر کر مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور ان دونوں کو جمع کر دیا۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، ”جب آپ ﷺ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کرتے اور ان دونوں کو جمع کر لیتے“، یعنی عشاء اور مغرب۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5517
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1711»