السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الجمع بين الصلاتين في السفر باب: سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضًا لَهُ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ لِمَا بِهَا، وَلَا أَظُنُّ أَنْ تُدْرِكَهَا، وَذَلِكَ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ: فَخَرَجَ مُسْرِعًا وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ لَمْ يَقُلْ لِيَ الصَّلَاةَ، وَكَانَ عَهْدِي بِصَاحِبِي وَهُوَ مُحَافِظٌ عَلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَبْطَأَ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَرْحَمُكَ اللهُ، فَمَا الْتَفَتَ إِلَيَّ، ثُمَّ مَضَى كَمَا هُوَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَقَدْ تَوَارَى الشَّفَقُ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ الْأَمْرُ صَنَعَ هَكَذَا ". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، وَعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَرِوَايَةُ الْحُفَّاظِ مِنْ أَصْحَابِ نَافِعٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ، فَقَدْ رَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَأَسْلَمُ مَوْلَى عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ⦗٢٢٩⦘ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ، وَقِيلَ ابْنُ ذُؤَيْبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَ رِوَايَتِهِمْ، أَمَّا حَدِيثُ سَالِمٍ فَرَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمٍ.نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلا، وہ اپنی زمین کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے، انہوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا کو مسئلہ ہے اور میرا گمان نہیں کہ آپ ان کو پا لیں، اور یہ عصر کے بعد کا وقت تھا۔ وہ جلدی سے نکلے، ان کے ساتھ ایک قریشی آدمی تھا۔ ہم بھی چلے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور انہوں نے مجھے نماز کا نہیں کہا۔ میں اپنے ساتھی کو ہمیشہ نماز کی بڑی محافظت کرنے والا پاتا تھا۔ جب انہوں نے دیر کی تو میں نے کہا: نماز، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ انہوں نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ پھر چلتے رہے یہاں تک کہ شفق کا آخری حصہ تھا اور وہ اترے، مغرب کی نماز پڑھی، پھر نماز کی اقامت ہوئی اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی جب کہ شفق غائب ہو چکی تھی۔ پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب آپ ﷺ کو کسی معاملے کی جلدی ہوتی تو اسی طرح کر لیتے تھے۔
فضیل بن غزوان اور عطاف بن خالد نے بھی نافع سے اسی معنی کی روایت کی ہے، لیکن نافع کے حفاظ شاگردوں کی روایت درستی کے زیادہ قریب ہے۔