السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : لا يقصر الذي يريد السفر حتى يخرج من بيوت القرية، ثم يقصر حتى يدخل أدنى بيوتها باب: سفر کا ارادہ کرنے والا قصر نہ کرے جب تک کہ وہ بستی کے گھروں سے باہر نہ نکل جائے، پھر وہ قصر کرتا رہے یہاں تک کہ بستی کے ابتدائی گھروں میں داخل ہو جائے
حدیث نمبر: 5448
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أنبأ وِقَاءُ بْنُ إِيَاسٍ أَبُو يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُتَوَجِّهِينَ هَهُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِذَا رَجَعْنَا وَنَظَرْنَا إِلَى الْكُوفَةِ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذِهِ الْكُوفَةُ نُتِمُّ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، حَتَّى نَدْخُلَهَا ".حافظ ثناء اللہ
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام کی طرف گئے۔ انہوں نے واپسی تک دو دو رکعات پڑھائیں۔ جب واپس آئے اور کوفہ کو دیکھ لیا ادھر نماز کا وقت بھی ہو گیا تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ کوفہ ہے ہم نماز مکمل کر لیں؟ فرمایا: ”نہیں جب تک اس میں داخل نہ ہو جاؤ۔“