کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سفر کا ارادہ کرنے والا قصر نہ کرے جب تک کہ وہ بستی کے گھروں سے باہر نہ نکل جائے، پھر وہ قصر کرتا رہے یہاں تک کہ بستی کے ابتدائی گھروں میں داخل ہو جائے
حدیث نمبر: 5444
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: وَثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن منکدر رحمہ اللہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعات پڑھیں اور ذی الحلیفہ میں دو رکعات۔
حدیث نمبر: 5445
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْهُمَا، وَأَخْرَجَا حَدِيثَ أَيُّوبَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن میسرہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور ذی الحلیفہ میں عصر کی دو رکعات۔
حدیث نمبر: 5446
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ⦗٢٠٩⦘ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، وَكُنْتُ أَخْرَجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ، فَقَالَ أَنَسٌ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ، شَكَّ شُعْبَةُ، قَصْرَ الصَّلَاةَ ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ سَلَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَكُنْتُ أَخْرَجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) یحییٰ بن یزید ہنائی بیان کرتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کے بارے میں سوال کیا، میں کوفہ گیا تھا اور واپسی تک دو دو رکعات پڑھتا رہا۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نبی ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت کے لیے نکلتے تو نماز قصر کرتے“ (شعبہ کو شک ہے)۔
(ب) ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ وہ دو رکعتیں پڑھتے لیکن انہوں نے یہ قول «وَكُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ» ”اور میں کوفہ کی طرف نکلتا تھا تو دو رکعتیں پڑھتا تھا“ ذکر نہیں کیا۔
(ب) ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ وہ دو رکعتیں پڑھتے لیکن انہوں نے یہ قول «وَكُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ» ”اور میں کوفہ کی طرف نکلتا تھا تو دو رکعتیں پڑھتا تھا“ ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 5447
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ أَتَى قَرْيَةً مِنْ حِمْصَ عَلَى ثَلَاثَةَ عَشَرَ مِيلًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قُلْتُ: أَتُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ؟ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ". لَفْظُ حَدِيثِ النَّضْرِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ عَنِ ابْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ، وَكُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى مَعْنَى مَا رَوَاهُ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ وَغَيْرِهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) جبیر بن نفیر، ابن سمط سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حمص کی ایک بستی میں آئے جو تیرہ میل دور تھی، وہاں دو رکعات پڑھیں۔ میں نے کہا: ”آپ نے دو رکعات پڑھیں۔“ فرمانے لگے: ”میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ ذی الحلیفہ میں دو رکعات پڑھا کرتے تھے، میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں ویسے ہی کرتا ہوں جیسے میں نے نبی ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔““
(ب) ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ابن سمط نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ”میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ذی الحلیفہ میں دو رکعات ادا کیں۔“
(ب) ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ابن سمط نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ”میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ذی الحلیفہ میں دو رکعات ادا کیں۔“
حدیث نمبر: 5448
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أنبأ وِقَاءُ بْنُ إِيَاسٍ أَبُو يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُتَوَجِّهِينَ هَهُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِذَا رَجَعْنَا وَنَظَرْنَا إِلَى الْكُوفَةِ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذِهِ الْكُوفَةُ نُتِمُّ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، حَتَّى نَدْخُلَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام کی طرف گئے۔ انہوں نے واپسی تک دو دو رکعات پڑھائیں۔ جب واپس آئے اور کوفہ کو دیکھ لیا ادھر نماز کا وقت بھی ہو گیا تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ کوفہ ہے ہم نماز مکمل کر لیں؟ فرمایا: ”نہیں جب تک اس میں داخل نہ ہو جاؤ۔“
حدیث نمبر: 5449
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ وِقَاءَ بْنِ إِيَاسٍ الْأَسَدِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ رَبِيعَةَ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَصَرْنَا وَنَحْنُ نَرَى الْبُيُوتَ، ثُمَّ رَجَعْنَا فَقَصَرْنَا وَنَحْنُ نَرَى الْبُيُوتَ، فَقُلْنَا لَهُ: فَقَالَ عَلِيٌّ: " نَقْصُرُ حَتَّى نَدْخُلَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ربیعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تو ہم نے (نماز) قصر کی اور ہم (ابھی) گھروں کو دیکھ رہے تھے۔ پھر جب واپس پلٹے تو (تب بھی) ہم نے قصر کی، حالانکہ ہم اپنے گھروں کو دیکھ رہے تھے۔ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے (اس بارے میں) کہا تو انہوں نے فرمایا: ”داخل ہونے تک قصر ہی کریں گے۔“