حدیث نمبر: 5436
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ، فَلَمَّا دَخَلَ مَسْجِدَ مِنًى فَقَالَ: " كَمْ صَلَّى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟ " قَالُوا: أَرْبَعًا. فَصَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: فَقُلْنَا: أَلَمْ تُحَدِّثْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَ: بَلَى، وَأَنَا أُحَدِّثُكُمُوهُ الْآنَ، وَلَكِنَّ عُثْمَانَ كَانَ إِمَامًا فَمَا أُخَالِفُهُ، وَالْخِلَافُ شَرٌّ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب وہ مسجدِ منیٰ میں داخل ہوئے تو انہوں نے سوال کیا کہ امیر المؤمنین نے کتنی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: چار رکعات، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی چار رکعات پڑھ لیں۔ ہم نے کہا: آپ تو ہمیں نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ دو رکعات پڑھتے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی، تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، میں اب بھی تمہیں (یہی بات) بیان کر دیتا ہوں، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ امام ہیں اور میں ان کی مخالفت نہیں کرنا چاہتا اور اختلاف بری چیز ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5436
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»