السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، بِوَاسِطَ، عَنْ أَشْيَاخِ الْحِيِّ قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ الظُّهْرَ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ فَعَابَ عَلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي رَحْلِهِ الْعَصْرَ أَرْبَعًا، فَقُلْتُ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ وَصَلَّيْتَ أَرْبَعًا؟ قَالَ: " إِنِّي أَكْرَهُ الْخِلَافَ " وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ.حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن قرۃ اپنے قبیلے کے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے ان پر عیب لگایا۔ پھر انہوں نے اپنے گھر عصر کی نماز چار رکعات پڑھائی۔ میں نے کہا: آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عیب لگاتے ہو اور خود چار رکعات پڑھتے ہو؟ فرمانے لگے: میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں۔