السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية ترك التقصير، والمسح على الخفين، وما يكون رخصة رغبة عن السنة باب: سنت سے اعراض کرتے ہوئے قصر، موزوں پر مسح اور دیگر رخصتوں کو چھوڑ دینے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5416
وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعَاصِيهِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی رخصتوں کو قبول کیا جائے جیسے اس کی نافرمانی کو ناپسند کیا جاتا ہے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ جیسے وہ پسند فرماتا ہے کہ اس کے فرائض کو ادا کیا جائے۔