کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: سنت سے اعراض کرتے ہوئے قصر، موزوں پر مسح اور دیگر رخصتوں کو چھوڑ دینے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5414
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَقَالَ: " مَا بَالُ بِرِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرًا تَرَخَّصْتُ فِيهِ فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَوَاللهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کام کیا اور اس میں رخصت دی، پھر آپ ﷺ کو لوگوں کے بارے میں پتا چلا کہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہیں اور بچتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہوا کہ ان کو میری طرف سے کوئی حکم پہنچتا ہے اور میں نے اس میں رخصت دی ہے اور وہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور بچتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں اللہ کو ان سے زیادہ جانتا ہوں اور میں اللہ سے بہت زیادہ ڈرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5414
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5750»
حدیث نمبر: 5415
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ "..
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پسند فرماتا ہے کہ اس کی رخصتوں کو قبول کیا جائے جیسے اس کے فرائض کو لیا جاتا ہے، یعنی عمل کیا جاتا ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5415
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ابن حبان 354»
حدیث نمبر: 5416
وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعَاصِيهِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی رخصتوں کو قبول کیا جائے جیسے اس کی نافرمانی کو ناپسند کیا جاتا ہے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ جیسے وہ پسند فرماتا ہے کہ اس کے فرائض کو ادا کیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5416
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 2/108»
حدیث نمبر: 5417
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ السَّفَرِ، قَالَ: " رَكْعَتَانِ، مَنْ خَالَفَ السُّنَّةَ كَفَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرمانے لگے: دو رکعات ہیں، جس نے سنت کی خلاف ورزی کی، اس نے کفر کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5417
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ عبد الرزاق 4281»