السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاختيار للزوج إذا استأذنت امرأته إلى المسجد أن لا يمنعها باب: شوہر کے لیے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ جب اس کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے
حدیث نمبر: 5371
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكِنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نُحِبُّ الصَّلَاةَ تَعْنِي مَعَكَ فَيَمْنَعُنَا أَزْوَاجُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاتُكُنَّ فِي بُيُوتِكُنَّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي دُورِكُنَّ، وَصَلَاتُكُنَّ فِي دُورِكُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ ". قَالَ أَبُو زَكَرِىَّ: سَأَلْتُ أَبَا بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ هَذَا أَيْنَ سَمِعَ مِنْهُ؟ قَالَ: بِوَدَّانَ، وَبِهَا يَوْمَئِذٍ عَبْدُ الْمُؤْمِنِ. قَالَ الشَّيْخُ: تَابَعَهُ أَيْضًا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِأَنْ لَا يُمْنَعْنَ أَمْرُ نَدْبٍ وَاسْتِحْبَابٍ، لَا أَمْرُ فَرْضٍ وَإِيجَابٍ، وَهُوَ قَوْلُ الْعَامَّةِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.حافظ ثناء اللہ
عبد الحمید بن منذر بن ابی حمید ساعدی اپنے والد سے اور وہ اپنی دادی رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہیں، لیکن ہمارے خاوند ہمیں منع کرتے ہیں۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا اپنے گھروں میں نماز پڑھنا تمہارے لیے تمہارے قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا جامع مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: نہ روکنے کا حکم استحبابی ہے، فرض اور واجب نہیں۔ اہل علم کا یہی قول ہے۔