کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: شوہر کے لیے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ جب اس کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے
حدیث نمبر: 5366
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْحَسَنِيُّ إِمْلَاءً، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قِرَاءَةً قَالَا: أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا ". زَادَ الْعَلَوِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ سُفْيَانُ: " إِذَا كَانَ ذَلِكَ لَيْلًا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی عورت مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اس کو نہ روکے۔“
حدیث نمبر: 5367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَبْلُغُ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ نے بھی اسی جیسی حدیث بیان کی ہے مگر انہوں نے دوسرے الفاظ بیان کیے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
حدیث نمبر: 5368
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ بِنَيْسَابُورَ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى الْمَسَاجِدِ، فَأْذَنُوا لَهُنَّ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَقَالَ: إِلَى الْمَسْجِدِ لَمْ يَشُكَّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہاری عورتیں مسجد یا فرمایا: مساجد کی طرف جانے کی اجازت مانگیں تو ان کو اجازت دے دو۔“
حدیث نمبر: 5369
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ الْمَسَاجِدَ بِاللَّيْلِ ". فَقَالَ ابْنُهُ: وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا، فَرَفَعَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ، وَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرِينَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی عورتوں کو رات کے وقت مساجد سے منع نہ کرو۔“ ان کا بیٹا کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم ضرور منع کریں گے ورنہ وہ اس کو دھوکے کا ذریعہ بنا لیں گی۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو تھپڑ دے مارا اور کہنے لگے: میں تجھے نبی ﷺ سے حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو یہ کہہ رہا ہے!
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو تھپڑ دے مارا اور کہنے لگے: میں تجھے نبی ﷺ سے حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو یہ کہہ رہا ہے!
حدیث نمبر: 5370
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَشْهَدُ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهَا: لِمَ تَخْرُجِينَ وَقَدْ تَعْلَمِينَ أَنَّ عُمَرَ يَكْرَهُ ⦗١٩٠⦘ ذَلِكَ وَيَغَارُ؟ قَالَتْ: فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْهَانِي؟ قَالَ: يَمْنَعُهُ قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِيثَ دُونَ قِصَّةِ عُمَرَ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی صبح اور عشاء کی نماز مسجد میں ادا کرتی تھیں، ان سے کہا گیا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو اچھا خیال نہیں کرتے، پھر آپ کیوں آتی ہیں؟ کہنے لگیں: کون سی چیز ان کو روکتی ہے کہ وہ مجھے منع کریں؟ بتایا گیا کہ ان کو نبی ﷺ کی یہ بات روکتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کی بندیوں کو مساجد سے منع مت کرو۔“
حدیث نمبر: 5371
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكِنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نُحِبُّ الصَّلَاةَ تَعْنِي مَعَكَ فَيَمْنَعُنَا أَزْوَاجُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاتُكُنَّ فِي بُيُوتِكُنَّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي دُورِكُنَّ، وَصَلَاتُكُنَّ فِي دُورِكُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِكُنَّ فِي مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ ". قَالَ أَبُو زَكَرِىَّ: سَأَلْتُ أَبَا بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ هَذَا أَيْنَ سَمِعَ مِنْهُ؟ قَالَ: بِوَدَّانَ، وَبِهَا يَوْمَئِذٍ عَبْدُ الْمُؤْمِنِ. قَالَ الشَّيْخُ: تَابَعَهُ أَيْضًا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِأَنْ لَا يُمْنَعْنَ أَمْرُ نَدْبٍ وَاسْتِحْبَابٍ، لَا أَمْرُ فَرْضٍ وَإِيجَابٍ، وَهُوَ قَوْلُ الْعَامَّةِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الحمید بن منذر بن ابی حمید ساعدی اپنے والد سے اور وہ اپنی دادی رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہیں، لیکن ہمارے خاوند ہمیں منع کرتے ہیں۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا اپنے گھروں میں نماز پڑھنا تمہارے لیے تمہارے قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا جامع مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: نہ روکنے کا حکم استحبابی ہے، فرض اور واجب نہیں۔ اہل علم کا یہی قول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: نہ روکنے کا حکم استحبابی ہے، فرض اور واجب نہیں۔ اہل علم کا یہی قول ہے۔
حدیث نمبر: 5372
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَوْ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ بَعْدَهُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ". قُلْنَا: يَا هَذِهِ، تَعْنِي لِعَمْرَةَ، أَوَمُنِعَتْهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبد الرحمن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ دیکھ لیتے جو ان کے بعد عورتوں نے شروع کر دیا تو وہ ان کو مساجد سے ضرور روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئی تھیں۔ وہ کہنے لگیں: ہاں۔