السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاختيار للزوج إذا استأذنت امرأته إلى المسجد أن لا يمنعها باب: شوہر کے لیے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ جب اس کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے
حدیث نمبر: 5370
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَشْهَدُ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهَا: لِمَ تَخْرُجِينَ وَقَدْ تَعْلَمِينَ أَنَّ عُمَرَ يَكْرَهُ ⦗١٩٠⦘ ذَلِكَ وَيَغَارُ؟ قَالَتْ: فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْهَانِي؟ قَالَ: يَمْنَعُهُ قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِيثَ دُونَ قِصَّةِ عُمَرَ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ.حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی صبح اور عشاء کی نماز مسجد میں ادا کرتی تھیں، ان سے کہا گیا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو اچھا خیال نہیں کرتے، پھر آپ کیوں آتی ہیں؟ کہنے لگیں: کون سی چیز ان کو روکتی ہے کہ وہ مجھے منع کریں؟ بتایا گیا کہ ان کو نبی ﷺ کی یہ بات روکتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کی بندیوں کو مساجد سے منع مت کرو۔“