السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء فيمن أم قوما وهم له كارهون باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو لوگوں کی امامت کرائے درآں حالیکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں
حدیث نمبر: 5342
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: عَبْدٌ آبِقٌ مِنْ سَيِّدِهِ حَتَّى يَأْتِيَ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ، وَامْرَأَةٌ بَاتَ زَوْجُهَا غَضْبَانُ عَلَيْهَا، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ". وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَرُوِيَ فِي الْإِمَامَةِ وَالْمَرْأَةِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ.حافظ ثناء اللہ
معمر رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وہ مرفوع ہی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین بندے ایسے ہیں کہ ان کی نمازیں ان کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتیں: اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام یہاں تک کہ وہ اپنے آقا کے پاس واپس آ جائے، ایسی عورت کہ اس کا خاوند اس حال میں رات گزارے کہ اس پر ناراض ہو، اور ایسا امام جس کو قوم ناپسند کرتی ہو۔“