السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ارتفاع الكراهية إذا كان أكثرهم به راضين باب: جب ان کی اکثریت اس (امام) سے راضی ہو تو کراہت کا ختم ہو جانا
حدیث نمبر: 5343
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ هَارُونَ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ صَدَقَةَ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ ⦗١٨٤⦘ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ عَلَى إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللهِ لَئِنْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنَّ أَبَاهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا، اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنا دیا۔ اس کی امارت پر بعض لوگوں نے تنقید کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اس کی امارت پر تنقید کرتے ہو تو تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اس سے پہلے تنقید کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! وہ (اس کا باپ) یقیناً امارت کا اہل تھا، اس کا باپ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے تھا اور یہ مجھے اس کے باپ کے بعد سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہے۔“