السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السمع والطاعة للإمام ما لم يأمر بمعصية من تأخير الصلاة عن وقتها وغير ذلك باب: امام کی بات سننا اور ماننا جب تک کہ وہ کسی نافرمانی کا حکم نہ دے جیسے نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا اور دیگر امور
حدیث نمبر: 5337
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ إِيَاسٍ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُ مْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لِلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم ایسی اقوام کو پالو جو نمازوں کو مؤخر کر کے پڑھیں گی۔ اگر تم ایسے لوگوں کو پالو تو تم نماز اپنے گھروں میں وقت پر پڑھ لو، جس وقت کو تم پہچانتے ہو۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھ لو اور اس کو نفل بنا لو۔“