السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السمع والطاعة للإمام ما لم يأمر بمعصية من تأخير الصلاة عن وقتها وغير ذلك باب: امام کی بات سننا اور ماننا جب تک کہ وہ کسی نافرمانی کا حکم نہ دے جیسے نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا اور دیگر امور
حدیث نمبر: 5336
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ قَوْمٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ، وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا "، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ؟ قَالَ: " يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللهَ " قَالَهَا ثَلَاثًا.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”عنقریب ایسی قوم تمہارے کاموں کی والی بن جائے گی جو سنت کو ختم کریں گے اور بدعات کو جاری کریں گے اور نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان کو پالوں تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام عبد کے بیٹے! اس کی اطاعت واجب نہیں جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔