السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السمع والطاعة للإمام ما لم يأمر بمعصية من تأخير الصلاة عن وقتها وغير ذلك باب: امام کی بات سننا اور ماننا جب تک کہ وہ کسی نافرمانی کا حکم نہ دے جیسے نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا اور دیگر امور
حدیث نمبر: 5334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ⦗١٨٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ "..حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اطاعت ہر مسلمان پر لازم ہے جس کو وہ پسند ہو یا نہ ہو جب تک نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، جب نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اطاعت واجب نہیں ہے۔“