السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إمامة القوم لا سلطان فيهم وهم في بيت أحدهم باب: ایسے لوگوں کی امامت جن میں کوئی حکمران نہ ہو اور وہ ان میں سے کسی کے گھر میں ہوں
حدیث نمبر: 5319
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ سَوَاءً، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا "، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: لِإِسْمَاعِيلَ: وَمَا تَكْرِمَتُهُ؟ قَالَ: فِرَاشُهُ..حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن رجا نے حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا قرآن کو زیادہ پڑھا ہوا اور قرأت کے اعتبار سے مقدم۔ اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو جو عمر کے اعتبار سے بڑا ہو۔“ پھر باقی حدیث ذکر کی۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اس کی عزت کی جگہ کون سی ہے؟ فرمایا: ”اس کا بستر۔“