السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إمامة القوم لا سلطان فيهم وهم في بيت أحدهم باب: ایسے لوگوں کی امامت جن میں کوئی حکمران نہ ہو اور وہ ان میں سے کسی کے گھر میں ہوں
حدیث نمبر: 5320
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ⦗١٧٩⦘ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ فُورَكٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ " وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا فِي أَهْلِهِ، وَلَا يُقْعَدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَوْ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ " أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً ".حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی کی امامت اس کی بادشاہی میں نہ کروائے اور نہ اس کے گھر اور اس کی عزت والی جگہ پر بیٹھے مگر اس کی اجازت سے“ یا فرمایا: ”اگر وہ اس کو اجازت دے۔“