السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إمامة القوم لا سلطان فيهم وهم في بيت أحدهم باب: ایسے لوگوں کی امامت جن میں کوئی حکمران نہ ہو اور وہ ان میں سے کسی کے گھر میں ہوں
حدیث نمبر: 5318
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ، وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ "، أَوْ قَالَ: " إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کی امامت وہ کروائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اور ہجرت کے اعتبار سے مقدم ہو، اگر وہ قراءت میں برابر ہوں تو ہجرت کے اعتبار سے جو مقدم ہو۔ اگر ہجرت کے اعتبار سے برابر ہوں تو جو عمر کے اعتبار سے بڑا ہو۔ کوئی بندہ کسی کی امامت اس کے گھر اور بادشاہی میں نہ کروائے اور اس کی عزت والی جگہ پر بغیر اجازت نہ بیٹھے“ یا یہ فرمایا: ”مگر وہ اس کو اجازت دے۔“