السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يؤخر الصلاة والقوم لا يخشونه باب: امام نماز کو مؤخر کرے اور لوگ اس (کے تسلط) سے نہ ڈرتے ہوں
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ ⦗١٧٧⦘ الصَّلَاةَ بِالْكُوفَةِ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ فَسَمْعٌ وَطَاعَةٌ؟ أَمِ ابْتَدَعْتَ الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: لَمْ يَأْتِنَا مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ، وَمَعَاذَ اللهِ أَنْ أَكُونَ ابْتَدَعْتُ، أَبَى الله عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ أَنْ نَنْتَظِرَكَ فِي صَلَاتِنَا وَنَتَّبِعَ حَاجَتَكَ ".قاسم بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز کو مؤخر کر دیا اور میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کو اس پر کس چیز نے ابھارا؟ کیا امیر المؤمنین کی جانب سے کوئی اطاعت کا حکم آیا یا آپ نے اپنی جانب سے اس کی ابتدا کی ہے؟ کہنے لگے: نہ تو امیر المؤمنین کی جانب سے کوئی حکم آیا اور نہ ہی میں نے بدعت جاری کی ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ہم اپنی نمازوں میں تمہارا انتظار کریں اور تم اپنے کاموں میں مصروف رہو۔