السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة بغير أمر الوالي باب: حاکم کے حکم کے بغیر نماز پڑھانا
حدیث نمبر: 5312
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ: أَنَّهُ رَأَى صَاحِبَ الْمَقْصُورَةِ فِي الْفِتْنَةِ حِينَ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ يَتْبَعُ النَّاسَ، يَقُولُ: مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ؟ حَتَّى انْتَهَى إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " إِذًا تَقَدَّمْ أَنْتَ فَصَلِّ بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ ".حافظ ثناء اللہ
قاری ابو جعفر فرماتے ہیں کہ انہوں نے صاحبِ مقصورہ کو فتنے کے دور میں دیکھا، جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ نکلتے اور لوگ بھی ان کی پیروی کرتے اور پوچھتے: لوگوں کو کون نماز پڑھائے گا؟ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچ گئے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب آپ آگے بڑھ ہی گئے ہیں تو لوگوں کو امامت کراؤ۔