السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة بغير أمر الوالي باب: حاکم کے حکم کے بغیر نماز پڑھانا
حدیث نمبر: 5311
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّفَّارِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيٍّ يَعْنِي ابْنَ الْخِيَارِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقَالَ: " إِنِّي أُحْرَجُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَ هَؤُلَاءِ وَأَنْتَ الْإِمَامُ " قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: " إِنَّ الصَّلَاةَ أَحْسَنُ مَا عَمِلَ النَّاسُ، فَإِذَا رَأَيْتَهُمْ يُحْسِنُونَ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ يُسِيئُونَ فَاجْتَنِبْ مُسِيئَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عدی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب کہ وہ محصور تھے اور علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں آیا تاکہ میں ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھوں اور آپ امام ہوں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز لوگوں کے تمام اعمال سے بہتر ہے۔ جب تو دیکھے کہ وہ نیکی کرتے ہیں تو تو بھی ان کے ساتھ نیکی کر اور جب تو دیکھے کہ لوگ برائی کرتے ہیں تو تو ان سے بچ۔