السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة خلف من لا يحمد فعله باب: اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جس کے افعال قابلِ ستائش نہ ہوں
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: " بَعَثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ بِكُتُبٍ إِلَى الْحَجَّاجِ فَأَتَيْتُهُ، وَقَدْ نَصَبَ عَلَى الْبَيْتِ أَرْبَعِينَ مَنْجَنِيقًا، فَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ مَعَ الْحَجَّاجِ صَلَّى مَعَهُ، وَإِذَا حَضَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ صَلَّى مَعَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَتُصَلِّي مَعَ هَؤُلَاءِ وَهَذِهِ أَعْمَالُهُمْ؟ فَقَالَ: يَا أَخَا أَهْلِ الشَّامِ، مَا أَنَا لَهُمْ بِحَامِدٍ وَلَا نُطِيعُ مَخْلُوقًا فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي أَهْلِ الشَّامِ؟ قَالَ: مَا أَنَا لَهُمْ بِحَامِدٍ، قُلْتُ: فَمَا تَقُولُ فِي أَهْلِ مَكَّةَ؟ قَالَ: مَا أَنَا لَهُمْ بِعَاذِرٍ، يَقْتَتِلُونَ عَلَى الدُّنْيَا، يَتَهَافَتُونَ فِي النَّارِ تَهَافُتَ الذُّبَابُ فِي الْمَرَقِ، قُلْتُ: فَمَا قَوْلُكَ فِي هَذِهِ الْبَيْعَةِ الَّتِي أَخَذَ عَلَيْنَا مَرْوَانُ؟ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يُلَقِّنُنَا فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ".عمیر بن ہانی کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے مجھے خط دے کر حجاج کی طرف بھیجا۔ میں اس کے پاس آیا تو اس نے بیت اللہ پر چالیس منجنیقیں نصب کی ہوئی تھیں۔ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ حجاج کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما آئے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھی۔ میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور ان کے یہ اعمال ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے شامی بھائی! میں ان کی تعریف کرنے والا نہیں ہوں اور نہ ہی خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کرنے والا ہوں۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: آپ شام والوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: میں ان کی تعریف کرنے والا نہیں ہوں۔ میں نے کہا: مکہ والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فرمایا: میں ان کا عذر قبول کرنے والا نہیں ہوں۔ وہ دنیا کے حصول کے لیے لڑ رہے ہیں اور اپنے آپ کو جہنم میں گرا رہے ہیں، جیسے مکھیاں شوربے میں گرتی ہیں۔ میں نے کہا: آپ کا اس بیعت کے بارے میں کیا خیال ہے جو مروان نے لی؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب ہم نبی ﷺ سے سمع اور اطاعت پر بیعت کرتے تو آپ ﷺ فرما دیا کرتے تھے: ”جتنی تم طاقت رکھو۔“