کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جس کے افعال قابلِ ستائش نہ ہوں
حدیث نمبر: 5300
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ، بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر جہاد واجب ہے ہر نیک اور برے امیر کے ساتھ، اور نماز تم پر ہر نیک و بد مسلمان کے پیچھے فرض ہے اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا بھی ارتکاب کرے، اور ہر مسلمان نیک و بد پر نماز فرض ہے اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب بھی کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5300
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أبو داؤد 2533»
حدیث نمبر: 5301
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اعْتَزَلَ بِمِنًى فِي قِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَالْحَجَّاجُ بِمِنًى فَصَلَّى مَعَ الْحَجَّاجِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہماری کفایت کی اور ہمیں ٹھکانہ دیا، پس کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانہ دینے والا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5301
حدیث نمبر: 5302
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: " بَعَثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ بِكُتُبٍ إِلَى الْحَجَّاجِ فَأَتَيْتُهُ، وَقَدْ نَصَبَ عَلَى الْبَيْتِ أَرْبَعِينَ مَنْجَنِيقًا، فَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ مَعَ الْحَجَّاجِ صَلَّى مَعَهُ، وَإِذَا حَضَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ صَلَّى مَعَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَتُصَلِّي مَعَ هَؤُلَاءِ وَهَذِهِ أَعْمَالُهُمْ؟ فَقَالَ: يَا أَخَا أَهْلِ الشَّامِ، مَا أَنَا لَهُمْ بِحَامِدٍ وَلَا نُطِيعُ مَخْلُوقًا فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي أَهْلِ الشَّامِ؟ قَالَ: مَا أَنَا لَهُمْ بِحَامِدٍ، قُلْتُ: فَمَا تَقُولُ فِي أَهْلِ مَكَّةَ؟ قَالَ: مَا أَنَا لَهُمْ بِعَاذِرٍ، يَقْتَتِلُونَ عَلَى الدُّنْيَا، يَتَهَافَتُونَ فِي النَّارِ تَهَافُتَ الذُّبَابُ فِي الْمَرَقِ، قُلْتُ: فَمَا قَوْلُكَ فِي هَذِهِ الْبَيْعَةِ الَّتِي أَخَذَ عَلَيْنَا مَرْوَانُ؟ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يُلَقِّنُنَا فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عمیر بن ہانی کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے مجھے خط دے کر حجاج کی طرف بھیجا۔ میں اس کے پاس آیا تو اس نے بیت اللہ پر چالیس منجنیقیں نصب کی ہوئی تھیں۔ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ حجاج کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما آئے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھی۔ میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور ان کے یہ اعمال ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے شامی بھائی! میں ان کی تعریف کرنے والا نہیں ہوں اور نہ ہی خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کرنے والا ہوں۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: آپ شام والوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: میں ان کی تعریف کرنے والا نہیں ہوں۔ میں نے کہا: مکہ والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فرمایا: میں ان کا عذر قبول کرنے والا نہیں ہوں۔ وہ دنیا کے حصول کے لیے لڑ رہے ہیں اور اپنے آپ کو جہنم میں گرا رہے ہیں، جیسے مکھیاں شوربے میں گرتی ہیں۔ میں نے کہا: آپ کا اس بیعت کے بارے میں کیا خیال ہے جو مروان نے لی؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب ہم نبی ﷺ سے سمع اور اطاعت پر بیعت کرتے تو آپ ﷺ فرما دیا کرتے تھے: ”جتنی تم طاقت رکھو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5302
درجۂ حدیث محدثین: لغيرهٖ
تخریج حدیث «لغيرهٖ۔ ابن ابي شيبه 2/84»
حدیث نمبر: 5303
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يُصَلِّيَانِ خَلْفَ مَرْوَانَ، قَالَ: فَقَالَ: مَا كَانَا يُصَلِّيَانِ إِذَا رَجَعَا إِلَى مَنَازِلِهِمَا؟ فَقَالَ: " لَا وَاللهِ، مَا كَانَا يَزِيدَانِ عَلَى صَلَاةِ الْأَئِمَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں مروان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے پوچھا: وہ اپنے گھروں میں لوٹ کر نماز نہیں پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! وہ ائمہ کی نماز سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5303
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن ابي شيبه 7560»
حدیث نمبر: 5304
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْبَكَّاءِ قَالَ: " أَدْرَكْتُ عَشَرَةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يُصَلِّي خَلْفَ أَئِمَّةِ الْجَوْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد الکریم بکاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے دس صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا جو تمام ظالم امراء کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5304
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ بخاري في تاريخهٖ 6/90»
حدیث نمبر: 5305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي الْمَخْرَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا يُونُسُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُسَلِّمُ عَلَى الْخَشَبِيَّةِ وَالْخَوَارِجِ وَهُمْ يَقْتَتِلُونَ، فَقَالَ: " مَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ أَجَبْتُهُ، وَمَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ أَجَبْتُهُ، وَمَنْ قَالَ: حِيَّ عَلَى قَتْلِ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ وَأَخْذِ مَالِهِ، قُلْتُ: لَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خشبیہ اور خوارج کو سلام کہتے تھے اور وہ آپس میں لڑتے بھی تھے۔ فرماتے تھے: ”جو کہتا ہے نماز کی طرف آؤ، میں اس کی بات کو قبول کرتا ہوں اور جو کہتا ہے «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ میں اس کی بات بھی قبول کرتا ہوں اور جو کہے گا کہ اپنے مسلمان بھائی کو قتل کر یا اس کا مال لوٹنے کے لیے آؤ تو میں انکار کر دوں گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5305
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابو نعيم في العلية 1/309»