السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة خلف من لا يحمد فعله باب: اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جس کے افعال قابلِ ستائش نہ ہوں
حدیث نمبر: 5301
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اعْتَزَلَ بِمِنًى فِي قِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَالْحَجَّاجُ بِمِنًى فَصَلَّى مَعَ الْحَجَّاجِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہماری کفایت کی اور ہمیں ٹھکانہ دیا، پس کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانہ دینے والا۔“