السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المأموم يصلي خارج المسجد بصلاة الإمام في المسجد وليس بينهما حائل باب: مقتدی کا مسجد کے باہر سے مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا جبکہ ان کے درمیان کوئی پردہ یا آڑ حائل نہ ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: حَدَّثَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ أَثِقُ بِهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ عِنْدَهُ: " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَدْخُلُونَ حُجَرَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ فِيهَا الْجُمُعَةَ، قَالَ: وَكَانَ الْمَسْجِدُ يَضِيقُ عَلَى أَهْلِهِ فَيَتَوَسَّعُونَ بِهَا، وَحُجَرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَكِنَّ أَبْوَابَهَا شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ ". قَالَ مَالِكٌ: فَمَنْ صَلَّى فِي شَيْءٍ مِنْ أَفْنِيَةِ الْمَسْجِدِ الْوَاصِلَةِ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ أَوْ فِي رِحَابِهِ الَّتِي تَلِيهِ فَإِنَّ ذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ، وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ لَمْ يَعِبْهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ. قَالَ مَالِكٌ: فَأَمَّا دَارٌ مُغْلَقَةٌ لَا تُدْخَلُ إِلَّا بِإِذْنٍ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهَا بِصَلَاةِ الْإِمَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَإِنْ قَرُبَتْ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْمَسْجِدِ.امام مالک رحمہ اللہ ایک ثقہ آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں رضی اللہ عنہن کے حجروں میں داخل ہوتے تھے اور جمعہ کی نماز پڑھتے، کیونکہ مسجد تنگ ہو گئی تھی، وہ اس میں وسعت اختیار کرتے تھے اور نبی ﷺ کی بیویوں رضی اللہ عنہن کے حجرے مسجد میں نہ تھے بلکہ ان کے دروازے مسجد کے راستے پر تھے۔
نوٹ: امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے مسجد کے ساتھ ملے ہوئے صحن وغیرہ میں نماز پڑھی تو یہ کفایت کر جائے گی، لوگ ایک دوسرے پر عیب بھی نہیں لگاتے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر گھر بند ہو، بغیر اجازت کے اس کے اندر داخل ہونا ممنوع ہو تو پھر اس میں جمعہ کی نماز امام کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں، اگرچہ وہ گھر مسجد کے قریب ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ مسجد کا حصہ نہیں ہے۔