کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مقتدی کا مسجد کے باہر سے مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا جبکہ ان کے درمیان کوئی پردہ یا آڑ حائل نہ ہو
حدیث نمبر: 5247
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى الْجُمُعَةَ فِي بُيُوتِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِصَلَاةِ الْإِمَامِ فِي الْمَسْجِدِ، وَبَيْنَ بُيُوتِ حُمَيْدٍ وَالْمَسْجِدِ الطَّرِيقُ ".
حافظ ثناء اللہ
صالح بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کی نماز حمید بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ کے گھر امام کی اقتدا میں پڑھتے، حمید کے گھر اور مسجد کے درمیان راستہ تھا۔
حدیث نمبر: 5248
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ " يُصَلِّي بِصَلَاةِ الْإِمَامِ الْجُمُعَةَ فِي غُرْفَةٍ عِنْدَ السُّدَّةِ بِمَسْجِدِ الْبَصْرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد ربہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جمعہ کی نماز بصرہ کی مسجد کے صحن کے قریب ایک کمرہ میں امام کے ساتھ پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5249
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ فِي بُيُوتِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَامَ حَجَّ الْوَلِيدُ وَكَثُرَ النَّاسُ، بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جمعہ کی نماز حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ کے گھر پڑھتے تھے، جس سال ولید رحمہ اللہ نے حج کیا اور لوگ بہت زیادہ تھے، تو حمید رحمہ اللہ کے گھر اور مسجد کے درمیان راستہ تھا۔
حدیث نمبر: 5250
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: حَدَّثَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ أَثِقُ بِهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ عِنْدَهُ: " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَدْخُلُونَ حُجَرَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ فِيهَا الْجُمُعَةَ، قَالَ: وَكَانَ الْمَسْجِدُ يَضِيقُ عَلَى أَهْلِهِ فَيَتَوَسَّعُونَ بِهَا، وَحُجَرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَكِنَّ أَبْوَابَهَا شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ ". قَالَ مَالِكٌ: فَمَنْ صَلَّى فِي شَيْءٍ مِنْ أَفْنِيَةِ الْمَسْجِدِ الْوَاصِلَةِ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ أَوْ فِي رِحَابِهِ الَّتِي تَلِيهِ فَإِنَّ ذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ، وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ لَمْ يَعِبْهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ. قَالَ مَالِكٌ: فَأَمَّا دَارٌ مُغْلَقَةٌ لَا تُدْخَلُ إِلَّا بِإِذْنٍ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهَا بِصَلَاةِ الْإِمَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَإِنْ قَرُبَتْ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْمَسْجِدِ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ ایک ثقہ آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں رضی اللہ عنہن کے حجروں میں داخل ہوتے تھے اور جمعہ کی نماز پڑھتے، کیونکہ مسجد تنگ ہو گئی تھی، وہ اس میں وسعت اختیار کرتے تھے اور نبی ﷺ کی بیویوں رضی اللہ عنہن کے حجرے مسجد میں نہ تھے بلکہ ان کے دروازے مسجد کے راستے پر تھے۔
نوٹ: امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے مسجد کے ساتھ ملے ہوئے صحن وغیرہ میں نماز پڑھی تو یہ کفایت کر جائے گی، لوگ ایک دوسرے پر عیب بھی نہیں لگاتے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر گھر بند ہو، بغیر اجازت کے اس کے اندر داخل ہونا ممنوع ہو تو پھر اس میں جمعہ کی نماز امام کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں، اگرچہ وہ گھر مسجد کے قریب ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ مسجد کا حصہ نہیں ہے۔
نوٹ: امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے مسجد کے ساتھ ملے ہوئے صحن وغیرہ میں نماز پڑھی تو یہ کفایت کر جائے گی، لوگ ایک دوسرے پر عیب بھی نہیں لگاتے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر گھر بند ہو، بغیر اجازت کے اس کے اندر داخل ہونا ممنوع ہو تو پھر اس میں جمعہ کی نماز امام کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں، اگرچہ وہ گھر مسجد کے قریب ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ مسجد کا حصہ نہیں ہے۔