السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المأموم يصلي خارج المسجد بصلاة الإمام في المسجد وليس بينهما حائل باب: مقتدی کا مسجد کے باہر سے مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا جبکہ ان کے درمیان کوئی پردہ یا آڑ حائل نہ ہو
حدیث نمبر: 5249
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ فِي بُيُوتِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَامَ حَجَّ الْوَلِيدُ وَكَثُرَ النَّاسُ، بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقٌ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جمعہ کی نماز حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ کے گھر پڑھتے تھے، جس سال ولید رحمہ اللہ نے حج کیا اور لوگ بہت زیادہ تھے، تو حمید رحمہ اللہ کے گھر اور مسجد کے درمیان راستہ تھا۔