السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صلاة المأموم في المسجد أو على ظهره أو في رحبته بصلاة الإمام في المسجد وإن كان بينهما مقصورة أو أساطين أو غيرها شبيها بها باب: مقتدی کا مسجد کے اندر یا اس کی چھت پر یا اس کے صحن میں مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا اگرچہ ان کے درمیان کوئی حجرہ یا ستون یا ان جیسی کوئی اور چیز حائل ہو
حدیث نمبر: 5237
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ، فَكَانَ يَحْتَجِرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، وَيُبْسَطُ بِالنَّهَارِ فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ مَا دُووِِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ ". وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ إِذَا عَمِلُوا عَمَلًا أَثْبَتُوهُ. ⦗١٥٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک چٹائی تھی جس کا آپ ﷺ رات کو مسجد میں حجرہ بنا لیتے تھے اور نماز پڑھتے۔ لوگوں نے آپ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دی اور آپ ﷺ اس چٹائی کو دن میں بچھا دیتے تھے۔ لوگوں نے رات کو مسلسل آنا شروع کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے اوپر اتنے اعمال لازم کرو جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ اجر سے نہیں اکتائیں گے تم عمل سے اکتا جاؤ گے اور اللہ کو وہ اعمال زیادہ پسند ہیں جن پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ کم ہی ہو۔“ آل محمد ﷺ جب کوئی عمل شروع کرتے تو اس پر ہمیشگی کرتے۔