السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صلاة المأموم في المسجد أو على ظهره أو في رحبته بصلاة الإمام في المسجد وإن كان بينهما مقصورة أو أساطين أو غيرها شبيها بها باب: مقتدی کا مسجد کے اندر یا اس کی چھت پر یا اس کے صحن میں مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا اگرچہ ان کے درمیان کوئی حجرہ یا ستون یا ان جیسی کوئی اور چیز حائل ہو
حدیث نمبر: 5236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عَفَّانَ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ وُهَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
بسر بن سعید رحمہ اللہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مسجد میں ایک چٹائی سے حجرہ بنایا اور چند راتیں اس میں نماز پڑھی۔ لوگ جمع ہو گئے۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو گم پایا تو گمان کیا کہ آپ ﷺ سو گئے ہیں تو وہ کھانسی کرنے لگے تاکہ آپ ﷺ ان کی طرف نکلیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہاری حالت کو دیکھتا رہا، میں ڈر گیا کہ کہیں تمہارے اوپر فرض نہ کردی جائیں۔ اگر وہ فرض کردی جاتیں تو تم نہ پڑھ سکتے۔ اے لوگو! اپنے گھروں میں قیام کیا کرو، کیونکہ آدمی کی افضل نماز گھر میں ہی ہے سوائے فرض نماز کے۔“