السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صلاة المأموم في المسجد أو على ظهره أو في رحبته بصلاة الإمام في المسجد وإن كان بينهما مقصورة أو أساطين أو غيرها شبيها بها باب: مقتدی کا مسجد کے اندر یا اس کی چھت پر یا اس کے صحن میں مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا اگرچہ ان کے درمیان کوئی حجرہ یا ستون یا ان جیسی کوئی اور چیز حائل ہو
حدیث نمبر: 5238
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ حَتَّى كَثُرُوا، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ مَا دَامَ مِنْهَا وَإِنْ قَلَّ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنی چٹائی کا حجرہ بنا کر رات کو اس میں نماز پڑھتے تھے اور دن کو بچھا کر اس پر بیٹھتے تھے۔ لوگ مسلسل آنا شروع ہو گئے اور وہ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ان کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو آپ ﷺ اس پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! اتنے اعمال شروع کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تو (اجر سے) نہیں اکتائے گا، تم ہی (اعمال سے) اکتا جاؤ گے اور اللہ کو ہمیشگی والے اعمال پسند ہیں، اگرچہ کم ہوں۔“