حدیث نمبر: 5172
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو رَوْحٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي مَقَامَ كَذَا وَكَذَا، فَصَلَّى فِيهِ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ ثَبَتُوا مَعَهُ فِي مُصَلَّاهُ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ حَتَّى انْكَسَفَتِ الْعُيُونُ وَخَلَا مَقَامُهُ قَامَ فِيهِ وَحْدَهُ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَأَقْبَلْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَى يَمِينِهِ، وَجَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفَهُ وَخَلْفِي، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشِمَالِهِ، فَقُمْنَا هَكَذَا، فَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَابَةِ وَالْوُسْطَى وَالْأُخْرَى الَّتِي تَلِي الْخِنْصَرَ، يُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا لِنَفْسِهِ ". قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: ذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَى هَذَا وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَؤُمُّهُمْ فَلَمَّا قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ، كَانَ قَوْلُهُ قَدْ بَيَّنَ أَنَّهُ عَلِمَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَؤُمَّهُمْ وَهُوَ الَّذِي ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ مَعَهُ عِنْدَ تَحْرِيمِهَا، وَابْنُ مَسْعُودٍ الْجَائِي الدَّاخِلُ الَّذِي سَبَقَتْهُ النِّيَّةُ عِنْدَ تَحْرِيمِهَا..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں فلاں جگہ کسی رات قیام کیا۔ وہاں میں نے عشاء کی نماز پڑھی۔ جب لوگوں نے دیکھا تو وہ بھی اپنی نماز والی جگہوں میں ٹھہرے رہے۔ آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ آنکھیں تھک گئیں اور جس جگہ آپ ﷺ نے قیام کیا تھا خالی ہو گئی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اپنی دائیں جانب اشارہ کیا اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے تو وہ آپ ﷺ کے پیچھے اور میرے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ نے ان کو بائیں جانب اشارہ کیا، ہم اس طرح کھڑے رہے۔ انہوں نے اپنی درمیان والی اور شہادت والی اور چھوٹی انگلی کے ساتھ والی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھ رہا تھا۔
نوٹ: حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ نبی ﷺ نے ان کی امامت کروائی، لیکن سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے وضاحت کر دی کہ ہر ایک نے اپنی اپنی نماز پڑھی، نبی ﷺ نے امامت نہیں کروائی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5172