کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مقتدی کھڑے ہونے کی جگہ میں سنت کی مخالفت کرتے ہوئے امام کے بائیں جانب کھڑا ہو جائے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 5171
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ فَلَمَّا أَنْ مَالَتِ الشَّمْسُ أَقَامَ الصَّلَاةَ، فَقُمْتُ أَنَا وَصَاحِبِي خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَيَدِ صَاحِبِي فَجَعَلَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، فَقَامَ بَيْنَنَا، وَقَالَ: " هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً "، فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا، وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً ". وَهَذَا يُحْتَمَلُ إِنْ كَانَ ثَمَّ نَسْخٌ، وَاسْتَدْلَلْنَا عَنْ نَسْخِهِ بِمَا تَقَدَّمَ مِنْ خَبَرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَمَا رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَالْعَامَّةِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الَّذِي شَاهَدَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ فِي ذَلِكَ إِنَّمَا شَاهَدَهُ فِي غَيْرِ صَلَاةِ جَمَاعَةٍ، وَأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ كَانَ يُصَلِّي لِنَفْسِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبد الرحمن بن مسعود رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اور علقمہ رحمہ اللہ دوپہر کے وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ جب سورج ڈھل گیا تو انہوں نے نماز کھڑی کی، میں اور میرا ساتھی ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے میرا اور میرے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں دائیں بائیں کھڑا کر دیا اور خود ہمارے درمیان کھڑے ہو گئے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے تھے جب تین لوگ ہوتے۔“ پھر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”عنقریب ائمہ نمازوں کو مؤخر کریں گے، تم ان کا انتظار نہ کرنا اور ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لینا، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“
(ب) ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نفل نماز الگ الگ پڑھتے تھے، جماعت نہیں کروائی۔
(ب) ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نفل نماز الگ الگ پڑھتے تھے، جماعت نہیں کروائی۔
حدیث نمبر: 5172
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو رَوْحٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي مَقَامَ كَذَا وَكَذَا، فَصَلَّى فِيهِ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ ثَبَتُوا مَعَهُ فِي مُصَلَّاهُ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ حَتَّى انْكَسَفَتِ الْعُيُونُ وَخَلَا مَقَامُهُ قَامَ فِيهِ وَحْدَهُ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَأَقْبَلْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَى يَمِينِهِ، وَجَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفَهُ وَخَلْفِي، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشِمَالِهِ، فَقُمْنَا هَكَذَا، فَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَابَةِ وَالْوُسْطَى وَالْأُخْرَى الَّتِي تَلِي الْخِنْصَرَ، يُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا لِنَفْسِهِ ". قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: ذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَى هَذَا وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَؤُمُّهُمْ فَلَمَّا قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ، كَانَ قَوْلُهُ قَدْ بَيَّنَ أَنَّهُ عَلِمَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَؤُمَّهُمْ وَهُوَ الَّذِي ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ مَعَهُ عِنْدَ تَحْرِيمِهَا، وَابْنُ مَسْعُودٍ الْجَائِي الدَّاخِلُ الَّذِي سَبَقَتْهُ النِّيَّةُ عِنْدَ تَحْرِيمِهَا..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں فلاں جگہ کسی رات قیام کیا۔ وہاں میں نے عشاء کی نماز پڑھی۔ جب لوگوں نے دیکھا تو وہ بھی اپنی نماز والی جگہوں میں ٹھہرے رہے۔ آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ آنکھیں تھک گئیں اور جس جگہ آپ ﷺ نے قیام کیا تھا خالی ہو گئی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اپنی دائیں جانب اشارہ کیا اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے تو وہ آپ ﷺ کے پیچھے اور میرے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ نے ان کو بائیں جانب اشارہ کیا، ہم اس طرح کھڑے رہے۔ انہوں نے اپنی درمیان والی اور شہادت والی اور چھوٹی انگلی کے ساتھ والی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھ رہا تھا۔
نوٹ: حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ نبی ﷺ نے ان کی امامت کروائی، لیکن سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے وضاحت کر دی کہ ہر ایک نے اپنی اپنی نماز پڑھی، نبی ﷺ نے امامت نہیں کروائی۔
نوٹ: حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ نبی ﷺ نے ان کی امامت کروائی، لیکن سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے وضاحت کر دی کہ ہر ایک نے اپنی اپنی نماز پڑھی، نبی ﷺ نے امامت نہیں کروائی۔
حدیث نمبر: 5173
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ سِيرِينَ، يَعْنِي مَا فَعَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: كَانَ الْمَسْجِدُ ضَيِّقًا.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن سیرین رحمہ اللہ کے سامنے بیان کیا تو وہ کہنے لگے: ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مسجد کی تنگی کی وجہ سے ایسا کیا۔