السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب اختلاف نية الإمام والمأموم وغير ذلك -- باب: الفريضة خلف من يصلي النافلة باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف اور اس کے علاوہ دیگر مسائل کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5110
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَطَاءً كَانَ تَفُوتُهُ الْعَتَمَةُ فَيَأْتِي وَالنَّاسُ فِي الْقِيَامِ فَيُصَلِّي مَعَهُمْ رَكْعَتَيْنِ وَيَبْنِي عَلَيْهَا رَكْعَتَيْنِ، وَأَنَّهُ رَآهُ فَعَلَ ذَلِكَ وَيَعْتَدُّ بِهِ مِنَ الْعَتَمَةِ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عشاء کی نماز رہ جاتی تو وہ مسجد میں آتے اور لوگ قیام میں ہوتے تو ان کے ساتھ دو رکعات پڑھ لیتے اور مزید دو رکعات پڑھ کر نماز پوری کرتے، وہ اس کو عشاء کی نماز خیال کرتے تھے۔
نوٹ: ایک قوم ابو رجاء عطاردی رحمہ اللہ کے پاس آئی، وہ ظہر کی نماز پڑھنا چاہتے تھے، لیکن جماعت ہوچکی تھی۔ وہ کہنے لگے: ہم تو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے آئے تھے۔ وہ کہنے لگے: میں تمہیں نقصان میں نہیں چھوڑوں گا، پھر کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ نماز پڑھی۔