السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: فضل المساجد وفضل عمارتها بالصلاة فيها وانتظار الصلاة فيها باب: مساجد کی فضیلت، ان میں نماز ادا کر کے انہیں آباد کرنے اور ان میں نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوَ، أنبأ الْمُوَجِّهُ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَمْ تَعْلَمْ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنا سایہ نصیب کرے گا قیامت کے دن جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا: انصاف کرنے والا حکمران، اور وہ جوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنی جوانی صرف کرتا ہے، اور وہ بندہ جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں، اور وہ بندہ جس کا دل مسجد سے لگا ہوا ہے، اور دو شخص جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور وہ بندہ جس کو حسب و نسب اور جمال والی عورت برائی کی دعوت دے تو وہ کہتا ہے: ”میں اللہ سے ڈرتا ہوں“، اور وہ بندہ جو صدقہ کرتا ہے اور اسے پوشیدہ رکھتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہیں ہوتا جو اس کے دائیں ہاتھ نے خرچ کیا ہے۔“