السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صلاة النافلة جماعة باب: نفل نماز باجماعت ادا کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هُدْبَةُ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا وَأَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي أُمُّ حَرَامٍ، فَقَالَ: " قُومُوا فَلَأُصَلِّي بِكُمْ "، وَذَاكَ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ: فَأَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا؟ قَالَ: عَنْ يَمِينِهِ قَالَ: فَدَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللهِ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللهَ لَهُ، فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، فَكَانَ آخِرُ مَا دَعَا لِي: " اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ.ثابت، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور گھر میں، میں، میری والدہ اور خالہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔“ یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ ایک شخص نے ثابت سے کہا: تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہاں کھڑے ہوئے؟ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کے دائیں جانب، پھر آپ ﷺ نے گھر والوں کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کی دعا کی۔ میری ماں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ ﷺ کا چھوٹا خادم ہے اس کے لیے بھی دعا کریں، تو آپ ﷺ نے میرے لیے بھی ہر بھلائی کی دعا کی۔ آخری جو دعا آپ ﷺ نے میرے لیے کی وہ یہ تھی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! تو اس کا مال اور اولاد زیادہ کر اور اس کے لیے اس میں برکت عطا فرما۔“