السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صلاة النافلة جماعة باب: نفل نماز باجماعت ادا کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ ⦗٧٦⦘ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي، وَإِنَّ السَّيْلَ يَأْتِي فَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، فَإِنْ رَأَيْتَ صَلَّى الله عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَقَالَ: " أَفْعَلُ " فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ؟ " فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ وَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَذَكَرَ فِيهِ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: ”میری نظر ختم ہوگئی اور (بارش کا) سیلاب آتا ہے جو میرے اور مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے، اللہ آپ ﷺ پر رحمت فرمائے، آپ ﷺ میرے گھر آ کر ایک جگہ نماز پڑھ دیں تو میں اس جگہ نماز پڑھ لیا کروں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسا ہی کروں گا۔“ اگلے روز دوپہر کے وقت نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ ﷺ نے اجازت طلب کی تو میں نے اجازت دی، آپ ﷺ بیٹھے نہیں بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہاں پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے گھر میں نماز پڑھوں؟“ میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ ﷺ نماز پڑھیں، آپ ﷺ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہا تو ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنا لیں اور آپ ﷺ نے ہمارے لیے دو رکعتیں پڑھائیں۔