حدیث نمبر: 4916
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً عَلَيْنَا مِنْ حِفْظِهِ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقِنْبَارِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: " يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَجْزِيكَ، أَلَا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، عَمْدَهُ وَخَطَأَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرُ خِصَالٍ، أَنْ تُصَلَّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَبْدَأُ فَتُكَبِّرُ، ثُمَّ تَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، ثُمَّ تَقُولُ عِنْدَ فَرَاغِكَ مِنَ السُّورَةِ وَأَنْتَ قَائِمٌ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ قَائِمٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ مَرَّةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، وَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، وَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً "..
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! اے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس خوبیاں نہ بتاؤں؟ جب آپ یہ کریں گے تو اللہ آپ کے پہلے اور بعد والے، نئے اور پرانے، جان بوجھ کر کیے ہوئے اور غلطی سے ہو جانے والے، ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہ معاف کر دیں گے، وہ دس چیزیں یہ ہیں کہ تو چار رکعات ادا کر اور تکبیر کہہ کر ابتدا کر، پھر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھو، پھر سورت سے فارغ ہونے کے بعد کھڑے ہو کر «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» پندرہ بار پڑھ، پھر رکوع کر اور رکوع کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر رکوع سے سر اٹھا اور کھڑے ہونے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدہ کر اور سجدے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ۔ ہر رکعت میں یہ کل 75 مرتبہ ہو جائے گا۔ اگر تو ہر روز پڑھ سکے تو ایسا کر اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ہر ہفتہ میں، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو مہینہ میں ایک مرتبہ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو عمر میں ایک مرتبہ تو پڑھ ہی لو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4916
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابوداؤد 1297»