السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الخبر الذي جاء في الصلاة التي تسمى صلاة الزوال باب: اس حدیث کا بیان جو اس نماز کے بارے میں آئی ہے جسے زوال کی نماز کہا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبَى إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوَّعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ مِنْكُمْ؟ قُلْنَا: نَأْخُذُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ: " كَانَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ كَهَيْئَتِهَا مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ الْعَصْرِ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّقَتْ وَكَانَتْ مِنَ الْمَشْرِقِ كَهَيْئَتِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ عِنْدَ الظُّهْرِ قَامَ ⦗٧٣⦘ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، ثُمَّ يُصَلِّي الظُّهْرَ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِمِثْلِ ذَلِكَ ". ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، " فَهَذِهِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، وَقَلَّمَا يُدَاوِمُ عَلَيْهَا ". تَفَرَّدَ بِهِ عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ يُضَعِّفُهُ فَيَطْعَنُ فِي رِوَايَتِهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کی دن کی نفل نمازوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ ہم نے کہا: ہم اتنا کریں گے جتنی طاقت رکھیں گے۔ وہ کہنے لگے: آپ ﷺ رک جاتے جب تک سورج مشرق کی جانب سے اس حالت پر نہ آ جاتا جیسے عصر کے وقت مغرب کی جانب سے ہوتا ہے، پھر آپ ﷺ دو رکعات ادا کرتے، پھر رک جاتے یہاں تک کہ سورج بلند ہو جاتا اور مکمل ٹکیا بن جاتی اور اس کی وہ حالت ہو جاتی جو مشرق سے مغرب کی جانب آتے ہوئے ہوتی ہے، پھر ظہر کے وقت کھڑے ہو کر چار رکعات ادا کرتے اور ہر دو رکعتوں کے درمیان سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے اور مقرب فرشتوں، انبیاء اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کرتے، پھر سورج کے ڈھل جانے تک رک جاتے، پھر ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھتے، ان میں ایسے ہی فاصلہ کرتے، پھر ظہر کی نماز پڑھتے، پھر اس کے بعد دو رکعات ادا کرتے، پھر عصر سے پہلے چار رکعات ادا فرماتے، ان میں بھی اسی طرح فاصلہ کرتے، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ یہ سولہ رکعات نبی کریم ﷺ کے دن کے نفل تھے، ان پر ہمیشگی ہوتی تھی۔